|
Showing posts with label Urdu Islamic Articles. Show all posts
Showing posts with label Urdu Islamic Articles. Show all posts
Friday, 30 December 2016
لباس اور پوشاک کے مسائل و آداب
شان مصطفی
صدیوں سے نعت لکھی ، پڑھی اور سنی جا رہی ہے نعت تخیل کے نرم و نازک آبگینے عشق و محبت ، عقیدت کے بے بہا خزینے ریشمی حروف کے رواں دواں سفینے اور اظہار بیاں کے خوبصورت قرینے کا دوسرا نام ہے ۔ کہنے والوں نے عقیدت و احترام میں ڈوب کر زبان مشک سے دھو کر نعت لکھی ۔ پڑھنے والوں نے لحن ِ داودی مستعار لے کر نعت پڑھی اور سننے والوں نے نوائے سروش سمجھ کر نعت سنی ۔ نعت کہنا عظیم اور لازوال عطیہ خداوندی ہے خالق ارض و سما اپنے پیارے محبوب ﷺ کا تذکرہ عام کر نے کے لیے کچھ ایسے افراد گراں مایہ کا انتخاب کر لیتا ہے جن کا دل و دماغ اور روح کے عمیق ترین گوشوں میں سرور ِ کائنات ﷺ کی محبت کو ٹ کوٹ کر بھری ہو تی ہے ۔ جن کی زندگی کا مقصد اور جینے کی آرزو صرف یہی ہو تی ہے کہ محبوب خدا ﷺ کے مقام و مرتبہ کو چار دانگ عالم میں اِس طرح پھیلایا دیا جائے کہ کائنات کے چپے چپے میں آقائے دو جہاں کا ذکر آپ ﷺ کی فکر و سیرت النبی ﷺ کی خوشبو مہک جائے معطر ہو جائے ۔ انسانی ذہن جب نقطہ عروج پر پہنچتا ہے تو نعت کے ذریعے اظہار کر تا ہے صبح سعادت جب طلوع ہو تی ہے تو نعت بن جاتی ہے طلب صادق جب موج بن کر کروٹ لیتی ہے تو نعت بن جاتی ہے اور شاعری جب پیکر التجا میں ڈھلتی ہے تو نعت بن جاتی ہے نعت سے روح کی کثافتیں لطافتوں میں ڈھلتی ہیں باطن سے عشقِ رسول ﷺ کے چشمے پھوٹتے ہیں گلشن ِ ایمان تازہ ہو تا ہے قلب کون و مکان دھڑکتا ہے زندگی کے تمام رنگ نکھرتے ہیں ایسی سر شاری مستی اور سرور کے سُوتے پھوٹتے ہیں جن کا نشہ جنت سے بھی بڑھ کر ہو تا ہے مدینہ کی گلیاں روضہ رسول ﷺ کا تصور اور گنبدِ خضرا کا تصور ہی روح پرور ہو تا ہے نعت سے دل و دماغ اور روح کو روشنی قلم پاکیزگی افکار تازگی خیالات زندگی الفاظ رنگینی اور لہجے رعنائی پاتے ہیں مضمون کو لا زوال عزت عنوان کو عروج و شہرت اسلوب کو ندرت بیان کو وسعت اور کلام کو قوت عطا کرتی ہے ۔نبوت کے بعد جب قریش کے ہجو گو شعرا نے جب رسالت ِ مآب ﷺ کی شان میں گستاخی شروع کی تو سرور دو عالم ﷺ نے اُن مشرکین کے مقابلے کے لیے حضرت حسان بن ثابت ؓ ، حضرت کعب ِ بن مالک ؓ اور حضرت عبداﷲ بن رواحہ ؓ کو لسانی اور شعری معرکوں کے لیے حکم دیا اور پھر ان تینوں صحابہ کے اشعار کے بارے میں فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو قریش کے تیروں کی بو چھاڑ سے بھی زیادہ سخت ہیں ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا :ترجمہ: اِن کی ہجو کر اﷲ کی قسم تیری ہجو ان کے لیے تاریکی شب میں تیر لگنے سے بھی سخت تر ہے تیرے ساتھ جبرائیل القدس ؑ ہیں ان شاعرانِ اسلام نے ایک تو مشریکن کو تابڑ توڑ جواب دیا اور دوسری طرف اِن کے قلم نے پیارے آقا ﷺ کی محبت و مدح و نعت میں ایسی جو لائیاں دکھائیں کہ سامعین کے اندر آپ ﷺ کی محبت و الفت کے ناپید ا کنار سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگتے اُس دور کے شعراء میں حضرت احسان بن ثابت ؓ کا فن آسمان کی بلندیوں پر نظر آتا ہے اُنہوں نے شہنشاہِ دو عالم ﷺ کی شان میں کئی اشعار کہے جو آج بھی اپنی سحر انگیزی اور تابا نیوں کے ساتھ زندہ جاوید ہیں ۔ ترجمہ : چشم فلک نے اے محبوب ﷺ کہیں بھی اور کبھی بھی آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کو ئی نہیں دیکھا اور کسی عورت نے کسی زمانہ میں آپ ﷺ سے زیادہ حسین و جمیل بچہ نہیں جنا پیدا کر نے والے نے آپ ﷺ کو ہر عیب و نقص سے مبرا منزہ پیدا فرمایا ہے گویا آپ ﷺ کے خالق نے آپ ﷺ کی اِس طرح تخلیق کی جیسی آپ ﷺ کی مرضی تھی عا شقانِ رسول ﷺ اشعار سن کر محبت عشق ، عقیدت کے سمندر میں غوطہ زن تھے اور محبوب کدا و نے فرمایا ’’ تم نے درست کہا ‘‘ حضرت سیدنا کعب بن مالک ؓ بھی آپ ﷺ کے مشہور شاعر تھے رسول اقدس ﷺ کے وصال پر تڑپ اٹھے اور بے ساختہ ان کے لبوں پر درج ذیل اشعار مچل گئے ۔ ترجمہ: اے آنکھ اچھی طرح اشکبار ہو کیونکہ میرے آقا ﷺ مخلوقات میں سب سے اعلی و برگذیدہ تھے ۔ آقائے نامدار ﷺ سردار تھے بزرگ تھے اور تمام جہاں میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھے ۔ محبوب پر وردگار ﷺ ہمارے حق میں بشیر بھی تھے نذیر بھی تھے اور ایسے نور تھے جن کی شعاع نے ہم کو روشن کر رکھا تھا۔اﷲ تبارک و تعالی نے آپ ﷺ کے نور کے طفیل میں ہمیں محفوظ رکھا اور رحم فرما کر آتشِ دوزخ سے نجات دی ۔ بلاشبہ انسانی آنکھ اِس اہلیت سے محروم ہے کہ وہ رسول ِ دو جہاں ﷺ سید المشتا قین ﷺ کے حسن و جمال کا مشاہدہ کر سکے عاشقِ رسول صدیقِ اکبر ؓ کو بھی تاب نظارہ نہ تھی کہ نظر بھر کر روئے تاباں کے حسن بے مثال سے کیف حاصل کر سکیں ہماری اماں جان حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جنہوں نے اپنے محبوب سر تاج ﷺ کے دندان مبارک سے طلوع ہو نے والے نور میں اپنی گمشدہ سوئی کو تاریکی میں تلاش کر لیا تھا آپ ؓ فرماتی ہیں اگر زنان مصر میرے آقا و مولا ﷺ کو ایک نظر دیکھ لیتیں تو اپنی انگلیاں کاٹنے کی بجائے چھریاں اپنے سینوں میں اتار لیتیں اور انہیں خبر تک نہ ہو تی ۔ پیارے آقا ﷺ کی دنیا میں آمد کے بعد آج تک ہر محب رسول ﷺ کے حسن و جمال کے ذکر میں رطب اللسان ہے لیکن آپ ﷺ کے حسن بے مثال کی یکتائی و کمال کا حق ادا کر نے سے قطعی قاصر و بے بس ہے ۔ پھر نور اسلام کی شعاعیں جب عرب سے نکل کر اطراف ِ عالم تک پہنچیں تو اہلِ عجم نے بھی حضو ر ﷺ کی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے عربی کے بعد فارسی شعراء نے اِس فن کو نقطہ عروج تک پہنچایا فارسی میں سعدی ، جامی ، اور قدسی نے بہت بلند پایہ کی نعتیں لکھی ہیں برصغیرپاک و ہند میں حضرت امیر خسرو کا نام فارسی میں سند کی حیثیت رکھتا ہے اردو میں پہلی نعت فخرلدین نظامی کی بتائی جاتی ہے پھر اردو نعت قلی قطب شاہ ملا و جہی نصرئی ہاشمی ، میر محمد باقر اور کرامت علی شہدی تک کا سفر طر کر تی ہو ئی محسن کا کو ری تک پہنچی ، محسن کاکوری اردو نعت کے وہ اولین شاعر مانے جاتے ہیں جنہوں نے نعت کو ایک مستقل صنف کے طور پر پیش کیا پھر امیر مینائی مولانا الطاف حسین حالی اور اقبال نے رسول پاک ﷺ کی شخصیت کو نشاہِ ثانیہ کے محرک کے طور پر پیش کیا پھر مولانا احمد رضا خان کو اﷲ تعالی نے اِس عظیم کام کے لیے چُنا پھر مولانا ظفر علی خان بیدم وارثی اور بے شمار مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم شعرا نے بھی رسول کریم ﷺ کی شان میں لازوال قسم کے اشعار کہے بقول سردار بشن سنگھ
گر مسلمانوں کا اک پیغمبر ِ اعظم ﷺ ہے تُو
اپنی آنکھوں میں بھی اِک اوتار سے کب کم ہے تُو
گر مسلمانوں کا اک پیغمبر ِ اعظم ﷺ ہے تُو
اپنی آنکھوں میں بھی اِک اوتار سے کب کم ہے تُو
Sunday, 25 December 2016
شہید شمس الحق علم و عمل کا پیکر
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے ،بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا شاعر کا یہ شعر شہید شمس الحق پر صادق آتا ہے ۔ان کی قابلیت ،خداداد صلاحیت،علم و عمل ، غیرت و حمیت ، تقویٰ و پرہیزگاری اور حلم و انکساری ان کو دیکھتے ہی صاف نظر آتے تھے۔جنہوں نے بھی شمس الحق کو قریب سے دیکھا ہوگا وہ میرے ان الفاظ کی’’تکمیلِ مضمون کے لئے خانہ پری کے برعکس صداقت کی‘‘ تصدیق کریں گے ۔کشمیر کی کربناک داستان میں صرف مظلومیت، آہ و بکاء اورنالہ و فغاں ہی نہیں ہے بلکہ اس سرزمین نے باحوصلہ ، جری اور بہادر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے سرخیل حضرات غنی کشمیر ی ،شیخ یعقوب صرفی اور اقبال جیسی بے مثال ہستیوں کو بھی جنم دیا ہے ۔یہ قوم گذشتہ ڈھائی سو برس سے اپنی کھوئی ہوئی پہچان کے لیے برسرپیکار ہے ،علاقائی طاقتورجبرنے اس کی روح کو پامال کردیا ہے ،ہر دور میں اس کے جیالوں نے اسکے اقدار کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگانے میں کوئی تردد یا تذبذب محسوس نہیں کیا اور سچی بات یہ ہے کہ1990ء میں تو اس سر زمین نے جیالوں کی ایک فوج کو وجود بخشا جن میں اکثریت کے حالات و واقعات سے یہ قوم اب تک ناواقف ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گم نام راہوں اور گوشوں میں مارے جانے والے مخلص اور ایثار پیش جری اور بہادر نوجوان بڑے کمانڈر یا لیڈر نہیں تھے اور جن کے ساتھ ’’عہدِوفا‘‘باندھی تھی انھوں نے بھی صرف سانس لینے تک یاد رکھا ۔چہارم کا سورج طلوع کیا ہوا کہ گویا کتابِ زندگی کے ساتھ پورے خاندان کی بساط ہی لپیٹ دی گئی ہو نہ کسی کو کوئی یتیم یاد رہا اور کسی کو بیوہ اور نہ ہی دردر کی ٹھوکریں کھانے والے شہید کی ا ماں !اور یہ کشمیر میں اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم دنیا کی قوموں کے بالکل برعکس ایسی قوم ہے جس کے پاس باتونی دانشور،لیڈر،عالم ،صحافی اور کمانڈران کی فوج تو ہے مگر عملی میدان میں کچھ کرنے کے لیے حوصلہ اور مستقل مزاجی نہیں ۔اس سب کے باوجود اس سرزمین کے نامی سپوتوں جن میں شہید شمس الحق ایک روشن ستارے کے طور پر ابھرے ہیں علم و ادب کو کبھی بھی کسی بھی حال میں نظرانداز نہیں کیا۔اس لئے کہ آزادی کی جنگوں میں باشعور قومیں علم و ہنر کو ترک نہیں کرتی ہیں ۔
شہید شمس الحق نے ابتدائی تعلیم کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے تین مضامین میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی ۔عالمِ شباب میں ہی انھیں جماعت اسلامی جموں و کشمیر کا تعارف حاصل ہوا ۔شمس الحق شہید نے آنکھ بند کر کے نہیں بلکہ پورے غور و فکر کے ساتھ علامہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر پڑھا اور شعور کی بیداری کے ساتھ ان کی دعوت کو قبول کر کے آخری سانسوں تک ہی نہیں بلکہ خون کے آخری قطرے تک اسے وفا کی ۔حق صاحب کو اﷲ نے بے مثال حافظہ سے نوازا تھا۔انھیں ہزاروں احادیث ازبر تھیں ۔قرآن و حدیث کو یاد کرنے کا انھیں بہت شوق تھا ۔شہادت سے چند برس قبل میں نے ’’شبِ قدر کی طاق شبوں ‘‘میں انھیں احادیث حفظ کرتے ہو ئے دیکھا ۔مطالعہ اور پڑھنے کا شوق انھیں اس قدر تھا کہ سفر و حضر میں پڑھتے ہی رہتے تھے حتیٰ کہ ُاس ’’ بس ‘‘میں بھی جہاں سواریوں کا شور اور بے ہنگم چیخ و پکارہر دم بلند ہوتی رہتی ہے ۔دینی اجتماعات میں جب کہیں کسی اسٹال پر نئی کتاب دیکھتے تھے تو فوراََ خرید کر اس کا مطالعہ شروع کر دیتے تھے ۔ کشمیری،اردو،عربی،انگریزی زبانوں پر انھیں دست رس حاصل تھی گر چہ فارسی سے بھی بڑا شغف تھا۔شہید شمس الحق بہت کم بولتے تھے ۔آپ کچھ پوچھتے تو جواب مختصر،البتہ کوئی علمی بات ہوتی تو وہ گھنٹوں بولتے تھے ۔مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے خالص علمی نشست میں انھیں مخصوص موضوع پر بات کرنے کے لئے مدعو کیا تو سامعین مبہوت ہو گئے ۔قرآنی آیات،احادیث اور ائمہ اسلام کے حوالوں کی ایسی بھرمار کہ تین گھنٹوں تک کسی کو پہلو بدلنے کی بھی خواہش نہیں ہوئی ۔اﷲ تعالیٰ نے انھیں علم ہی نہیں عمل سے بھی نوازا تھا ۔اﷲ کے راستے میں شہادت سے انھوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی ۔
وہ بعض نادان دوستوں کی طرح ’’دین و سیاست‘‘کی تفریق کے قائل نہیں تھے ۔ایک سرگرم داعی اور مصلح کے ساتھ ساتھ وہ ایک متحرک سیاستدان بھی تھے ۔انھوں نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی ٹکٹ پر 1983ء اور1987ء کے الیکشنوں میں حصہ لیا مگر ظالموں نے انھیں شکست سے دوچار کرنے کے لئے ہر وہ ہتھکنڈہ آزمایا جس سے ان کے مخالفین کی جیت یقینی ہو جاتی تھی ۔1987ء کے الیکشنوں میں ریکارڈ دھاندلیوں کے بعد کشمیر کے مسلمانوں میں الیکشن سیاست پر سے اعتماد اٹھ گیا اور سویت یونین کے افغانستان میں رسوا ہو نے سے کشمیر کے دیندار نوجوانوں پر ’’بزور بازو تبدیلی لانے ‘‘کا جذبہ اجاگر ہوا تو پاکستان ہجرت کرنے کا شوق بڑھنے لگا ۔ان نوجوانوں کو صاحبِ بصیرت اور باشعور قیادت کی ضرورت تھی توان کی نگاہیں ’’تحریک اسلامی‘‘کی جانب اٹھیں جس نے انھیں مایوس نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ شہید شمس الحق ہی نہیں غلام محمد صفی ،مولانا غلام نبی نوشہری اور سیدصلاح الدین احمد جیسی معروف شخصیات نے سرحد عبور کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ ٹھیک ہے کہ حالات ہر وقت ایک جیسے نہیں رہتے ہیں اور نا ہی عالمی سامراج کے ہر لمحہ بدلتے مزاج میں پرانے موقف کی ’’سیاسی گنجائش ‘‘موجود رہتی ہے مگر سچائی یہی ہے کہ ان جیسے سینکڑوں بزرگوں نے اس دور میں ’’عسکریت‘‘کو گلے لگایا جب اس کے ’’ثمرات اور فصل‘‘کی کوئی امید نہیں تھی ۔
شمس الحق نے حزب المجاہدین میں باضابط شرکت اختیار کی اور انھیں حزب المجاہدین نے ’’امیر حزب‘‘مقرر کیا ۔امیر ہی نہیں بلکہ وہ اس کے ناظم تعلیم وتربیت رہے ۔پاکستان میں قیام کے دوران انھوں نے اپنے علم وحلم اور تواضع و انکساری سے ایک دنیا کو متاثر کیا ۔کشمیر لوٹنے کے بعد’’ ڈوگرہ ریجمنٹ‘‘نے انھیں تین ساتھیوں سمیت گرفتار کیا۔ 16دسمبر 1993ء کو ساتھیوں سمیت قتل کر کے ان کی لاشیں ورثأ کو دیدی گئیں۔شہید شمس الحق نے کبھی بھی کفر اور طاغوت سے سمجھوتا نہیں کیا نا ہی وہ ’’مسئلہ کشمیر‘‘کے سیاسی حل سے پر امیدتھے ۔انھوں نے سر کی آنکھوں سے دلی سرکار کی بد نیتی اور غیر اخلاقی روش دیکھی تھی ۔انھوں نے جان بوجھ کر ’’جہادی راستہ‘‘منتخب کر لیا تھا ۔حریت کانفرنس کے وجود میں آنے سے بہت پہلے شمس الحق نے اقامت دین اور وطن کی آزادی کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔متحدہ حریت کانفرنس کے وجود میں آنے کے بعد جو گلے شکوے شہداء کے ورثا میں پیدا ہوئے اور بد گمانیوں کا ایک لاوا پھوٹ پڑا وہ اب تک ان ورثأ کے دلوں میں ’’تمام تر لیپا پوتی کے باوجود‘‘موجود ہے کہ جن ’’معصومین کے خون ‘‘نے حریت کو مقام بخشاانھیں اس نے بھول کر بھی کبھی یاد نہیں کیا۔ ضلع بڈگام کے غلام محمد میرکا جہادی نام شمس الحق تھا انھوں نے اپنی ’’صورت و سیرت‘‘سے غلامانِ محمد کے قافلہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور پھر زندگی کی آخری سانسوں میں اپنے جہادی نام کی اپنے خون سے تفسیر کرتے ہو ئے اس کی لاج رکھ کر ایک مثال قائم کردی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)